Imam Ahmad ibn Hanbal has been a great scholar. There is a great school of thought on his teachings. He set out for the path of Hadith. Once he went somewhere and slept in the mosque there. There was no social media at that time that one could know that he was Imam Ahmad bin Hanbal, so the servant of the mosque told Imam Ahmad bin Hanbal that this is not the time to come to the mosque so get out from here Imam Ahmad ibn Hanbal slept outside the mosque. A man passed by, he said to Ahmad ibn Hanbal, "Why are you lying here?" Ahmad bin Hanbal replied, "I am a traveler. I came on foot to the mosque to rest, but the servant of the mosque threw me out. That's why I slept here. The man said, "Come with me and rest in my house." So Ahmad bin Hanbal went with the man to his house.
Ahmad bin Hanbal says that I was lying in the house of the man and I saw that man was kneading flour and reciting Astaghfarullah at the same time. Imam Ahmad bin Hanbal was a scholar who was knowledgeable and he thought that every process of reciting is not useless it must have beneficial, so in the morning he asked the man, "I saw you working all night and constantly asking for forgiveness, so have you ever seen the benefit in your life?" Have you seen the impact on your life?
The man replied that Allah has given me whatever I asked from Allah till today but I have a wish which has not been fulfilled yet and that is to meet Imam Ahmad bin Hanbal. Ahmad bin Hanbal said, "Allah took me out of the mosque and brought me to your house. This is the result of your supplication and asking for forgiveness."
We are crying that there is no job, there is no admission.
Everyone has different problems and worries.
Once Imam Hassan Basri was teaching his students when a man came to him and said, "Imam i don't have child. What should I do?" Imam Hassan said, "Ask for forgiveness." He said, "OK," and left.
Another man came and said, "Imam, my business is not running. Tell me what to do." Imam Hassan said, "Ask forgiveness."
A third man came and said, "Imam, it is not raining." Imam Hassan said, "Ask forgiveness."
When three or four men like this came to him with different problems and Imam asked them all to do the same thing, the students said we found it very strange that they all came up with their own different problems and You all gave the same answer that you ask for forgiveness.why is so?
Imam Hassan replied, "Didn't you all listen to that verse of the Qur'an?" Of Surah Nooh.
Translation:
If you ask forgiveness for your sins, then Allah will create gardens for you, send down rain from the sky for you, give you children and make rivers for you.
Allah loves this nation and the young man who seeks forgiveness of his sins from Allah and seeks forgiveness.
When a person asks for forgiveness, Allah asks the angels if he has seen Paradise. The angels answer NO Ya ALLAH. Then Allah asks, "Has he seen Hell?" The angels answer NO YA ALLAH. Then Allah asks, "Has he seen me?" The angels answer NO YA ALLAH. Then Allah says to be a witness I forgave him.
Allah is the Most Forgiving, the Most Merciful. Whenever there is a sin, ask for forgiveness immediately, because it is not possible for a person not to make a mistake. The best and most successful person is the one who asks for forgiveness.
Satan will remind us that you are a great sinner. What is the use of your prayers? But Allah says, "Surely your sins will reach to the heavens, but once you ask forgiveness with a sincere heart, I will forgive all your sins." And I will turn your sins into good.
Subhan Allah.
URDU TRANSLATION:-
امام احمد بن حنبل بہت بڑے سکالر گزرے ہیں۔ انکی دی ہوئی تعلیمات پر ایک بہت بڑا سکول آف تھاٹس ہے۔ وہ حدیث کے راہ کیلئے نکلے۔ ایک مرتبہ کسی جگہ گئے اور وہاں مسجد میں سو گئے۔ اس زمانے میں سوشل میڈیا تو نہیں تھا کہ کوئی انہیں جان سکتا کہ یہ امام احمد بن حنبل ہیں تو مسجد کا جو خادم تھا اس نے امام احمد بن حنبل سے کہا کہ یہ کوئی وقت نہیں ہے مسجد میں آنے کا جائو یہاں سے لہٰذا انہیں مسجد سے نکال دیا اور امام احمد بن حنبل مسجد کے باہر سوگئے۔ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا تو اس نے احمد بن حنبل سے کہا آپ یہاں کیوں لیٹے ہیں تو احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ مسافر ہوں چلتا ہوا آیا ہوں آرام کرنے کیلئے مسجد میں گیا تھا لیکن مسجد کے ملازم نے مجھے باہر نکال دیا ہے اس لئے میں یہاں سو گیا۔ اس آدمی نے کہا آپ میرے ساتھ چلیں میرے گھر میں آرام کرلیں لہٰذا احمد بن حنبل آدمی کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے۔
احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ میں اس آدمی کے گھر لیٹا ہوا تھا تو دیکھا کہ وہ آدمی آٹا گوندھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ استغفرللّٰہ پڑھ رہا تھا۔امام احمد بن حنبل ایک سکالر تھے صاحب علم تھے انہوں نے سوچا کہ ہر چیز کا عمل بیکار نہیں ہوتا اسکا فائدہ ہوتا ہے لہذا انہوں صبح اس آدمی سے پوچھا کہ میں نے رات بھر دیکھا کہ آپ کام کر رہے تھے اور ساتھ مسلسل استغفار کا ورد کر رہے تھے تو کیا آپ نے زندگی میں کبھی اسکا فائدہ دیکھا ہے؟ کوئی اسکا اثر اپنی زندگی پر دیکھا ہے؟
اس آدمی نے جواب دیا کہ ۔یں آج تک اللّٰہ تعالٰی سے جو بھی مانگا ہے اس نے مجھے دیا ہے لیکن میری ایک خواہش ہے جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی اور وہ ہے امام احمد بن حنبل سے ملنے کی بس وہ رہ گئی ہے تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ اللّٰہ نے مجھے مسجد سے نکالا اور تمہارے گھر لے آیا یہ تمہاری دعا اور استغفار کا نتیجا ہے۔
ایک مرتبہ امام حسن بصری اپنے طالب علموں کو پڑھا رہے تھے کہ(1) ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ امام میری اولاد نہیں ہے میں کیا کروں امام حسن نے کہا استغفار کیا کرو۔اس نے کہا ٹھیک ہے اور چلا گیا۔ (2) ایک دوسرا آدمی آیا اور کہا کہ امام میرا کاروبار نہیں چل رہا مجھے بتائیں میں کیا کروں امام حسن نے کہا استغفار کرو۔(3) ایک تیسرا آدمی آیا اس نے کہا امام بارش نہیں ہو رہی امام۔حسن نے کہا استغفار کرو۔
جب اس طرح تین چار آدمی مختلف مسائل کے ساتھ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ نے سب کو ایک ہی عمل کرنے کو کہا تو طالب علموں نے کہا ہمیں یہ بہت عجیب بات لگی ہے کہ یہ سب آپ کے اپنے مختلف مسائل لیکر آئے تھے اور آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو تو ایسا کیوں؟
امام حسن نے جواب دیا کہ کیا آپ سب نے قرآن پاک کی وہ آیت نہیں سنی؟ سورہ نوح کی۔
فَقُل٘تُ اَس٘تَغ٘فِرُو رَبَّکُم اِنَّہٌ کَانَ غَفَّارًا۔
یُر٘سِلِ اسَّمٓاءَ عَلَی٘کُم مِد٘رَارًا۔
وَیُم٘دِد٘کُم٘ بِاَم٘وَالِ وَبَنِی٘نَ وَیَج٘عَلَّکُم جَنّٰتٍ وَیَج٘عَلَّکُم اَن٘ھٰرًا
ترجمہ:
اگر تم استغفار کرو گے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگو گے تو اللّٰہ تمہارے لئے باغات پیدا کردے گا، تمہارے لئے آسمان سے بارش برسائے گا، تمہیں ا ولاد دے گا اور تمہارے لئے نہریں بچھادے گا۔
اللّٰہ اس قوم کو پسند کرتا ہے اس نوجوان کو پسند کرتا ہے جو اللّٰہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے استغفار کرتا ہے۔
جب ایک شخص استغفار کرتا ہے تو اللّٰہ فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ کیا اس نے جنت دیکھی ہے؟فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں یا اللّٰہ۔ پھر اللّٰہ پوچھتا ہے کہ کیا اس نے جہنم دیکھی ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں یا اللّٰہ۔ پھر اللّٰہ پوچھتا ہے کیا اس نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں یا اللّٰہ۔ پھر اللّٰہ فرماتا ہے گواہ رہنا میں نے اسے معاف کیا۔
اللّٰہ بڑا غفور الرحیم ہے جب بھی گناہ ہو جائے تو فوراً معافی مانگ لو کیونکہ ایساممکن ہی نہیں ہے کہ انسان سے غلطی نہ ہو بہترین اور کامیاب انسان وہی ہے جو معافی مانگ لے۔
شیطان ہمیں یاد کروائے گا کہ تم تو بڑے گناہ گار ہو تمہاری نماز کا کیا فائدہ؟ مگر اللّٰہ فرماتا ہے بے شک تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں لیکن تم ایک مرتبہ سچے دل سے معافی مانگو میں تمہارے سارے گناہ معاف کردوں گا۔ اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دوں گا۔
سبحان اللّٰہ۔


1 Comments
Ma sha ALLAH ❤️
ReplyDeleteIf you have any suggestions please let me know