ہمارے ہاں شادی کا کیا مقصد ہے؟What is the purpose of Marriage in our society


For us, the purpose of marriage is only to satisfy our physical needs.  If one has to fulfill his physical need, he should get married and fulfill it in a legitimate way, which is not wrong, but ...

  Is the goal just to satisfy a physical need?
It will be completed in 10-15 minutes, what is the relationship after that?
Besides, what is the point of living together all the time?
Our basic concept of marriage is wrong.  What is the real purpose of this relationship? There is no such thing. That is why there are so many fittings and the society is deteriorating.
It is put in the mind of a man that you have to fulfill your physical need with your wife and the same is said with a woman.  On the other hand, before marriage, a man is being taught by his friends that your successful married life depends on your physical health. The boy is depressed by such nonsense.
Instead of saying that she is your spouse, she will be with you in all kinds of problems, but in our case, it happens that husband and wife are afraid to share their problems with each other.  Those who belong to the body to the soul and the relationship that Allah Almighty has called each other's clothes are the ones who are ashamed to share their problems with each other whether the problems are physical or others.  Because the mindset of both is done in this way.
Keep in mind that marriage is not just about fulfilling physical needs. In this relationship you form a family, accept each other in the name of Allah in the presence of witnesses, promise to support each other,  We stand together in the ups and downs of life. We are not taught that you are now each other's shields, but the girl is told not to share anything with your husband.  Do not tell them so that they do not become suspicious of you.  On the other hand, the boy is told that his wife is a fool, he does not need to tell his problems, do not overdo it.
Even today it is argued that a wife is a disobedient sinner if she refuses to meet her husband's physical needs, and a man will lose his dignity if he does not have physical relation on the first night.  We do not think beyond that.  We have limited this beautiful relationship to just that.
Instead, when the husband comes to the wife for the first time, he should talk to her, tell her something and listen to her.  The girl has left her home. Everything is new. There are many hopes for her. There are many fears in her heart. There is no insult if a man asked his wife if she is ready to make a physical relation or not try to make her comfort.  Your wife will always be with you.
The next thing that is done by the boy's family is to come to the bride's room the next morning and check her bed to see if the girl is chaste or not.
It is well established in the boy's mind that your wife is only there to meet your physical needs and that she has nothing to do with it.  If a husband respects his wife in a house or values ​​his wife's opinion, then it is called servant of wife, which is the Sunnah of our beloved Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him).
My writing may be crossing the boundaries of our society, but it is also true that in our country, as much as men think it is wrong to discuss the physical relationship of man and women, they say dirty things.  ۔  But while talking, everyone becomes a pilgrim.

URDU TRANSLATION:-

ہمارے نزدیک شادی کرنے کا مقصد صرف اپنی جسمانی ضرورت پوری کرنا ہے۔ اگر کسی کو اپنی جسمانی ضرورت پوری کرنی ہے تو وہ شادی کر کے ایک جائز طریقے سے پوری کرے، جو کہ غلط نہیں ہے، لیکن۔۔۔
کیا صرف جسمانی ضرورت پوری کرنا مقصد ہے؟
وہ تو 10-15 منٹ میں پوری ہوجائے گی، اسکے بعد کا رشتہ کیا ہے؟
اسکے علاوہ جو ساری زنگی اکٹھے رہنا ہے وہ کیا ہے؟
ہمارا تو شادی کے حوالے سے بنیادی نظریہ ہی غلط ہے۔ اصل مقصد کیا ہے اس رشتے کا وہ تو کہیں ہے ہی نہیں اسی لئے تو اتنی لڑائیاں ہوتی ہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔
مرد کے ذہن میں ڈال دیا جاتا ہے تم نے اپنی جسمانی ضرورت اپنی بیوی سے پوری کرنی ہے اور عورت سے بھی یہی کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف مرد کو اس کے دوست شادی سے پہلے یہ سبق پڑھا رہے ہوتے ہیں کہ تمہاری کامیاب  شادی شدہ زندگی تمہارے جسمانی طور پر تندرست ہونے پر منحصر ہے۔لڑکے کو ایسی فضول باتیں کرکے ڈپریشن میں ڈال دیا جاتا ہے۔
بجائے یہ کہنے کے کہ یہ تمہاری شریک حیات ہے تمہارے ہر طرح کے مسائل میں تمہارے ساتھ ہوگی لیکن ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے اپنے مسائل شیئر کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ جن کا تعلق جسم سے لیکر روح تک ہوتا ہے اور جس رشتے کو اللّٰہ تعالٰی نے ایک دوسرے کا لباس کہا ہے وہی ایک دوسرے سے اپنے مسائل شیئر کرتے ہوئے شرماتے ہیں چاہے وہ جسمانی ہوں یا کوئی بھی۔ کیونکہ ذہن سازی ہی دونوں کی اس طرح سے کی گئی ہوتی ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ شادی کا رشتہ صرف جسمانی ضرورت پوری کرنے تک نہیں ہے اس رشتے میں آپ فیملی بناتے ہیں، گواہوں کی موجودگی میں اللّٰہ کا نام لیکر ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں، ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا وعدہ کرتے ہیں، زندگی کے اتار چڑھائو میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ہمیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ تم دونوں اب ایک دوسرے کی ڈھال ہو بلکہ لڑکی کو یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے شوہر سے کوئی بات شیئر نہ کرنا تمہیں کوئی پریشانی ہو سہہ جانا شوہر کو نہ بتانا کہیں وہ تم سے بدگمان نہ ہوجائے۔ دوسری طرف لڑکےکو کہا جاتا ہے بیوی تو ہوتی بیوقوف ہے، اسے اپنے مسائل بتانے کی ضرورت نہیں ہے، زیادہ سر پر نہ چڑھانا۔
آج بھی ایک بات زیر بحث لائی جاتی ہے کہ بیوی اگر اپنے شوہر کی جسمانی ضرورت پوری کرنے سے انکار کردے تو نافرمان گناہگار ہے اور مرد نے اگر پہلی رات ہمبستری نہ کی تو اسکی شان میں کمی آجائے گی۔ اس سے آگے ہماری سوچ جاتی ہی نہیں ہے۔ ہم نے اس خوبصورت رشتے کو بس یہی تک محدود کر دیا ہے۔
بجائے اسکے کہ شوہر جب پہلی مرتبہ بیوی کے پاس آئے تو اس سے بات کرے کچھ اپنی سنائے اور کچھ اسکی سنے۔ وہ لڑکی اپنا گھر چھوڑ کے آئی ہے سب نیا ہے اسکے لئے بہت امیدیں ہیں اسکے دل میں بہت سے خوف ہیں۔ اسکی مرضی پوچھی جائے کہ کیا وہ تیار ہے اپنا جسمانی تعلق قائم کرنے کیلئے اگر انکار کردے تو اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔ تمہاری بیوی ہے ہمیشہ تمہارے پاس ہی رہے گی۔
اسکے بعد جو ایک گھٹیا کام کیا جاتا ہے لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے وہ یہ ہے کہ شادی کی اگلی صبح دلہن کے کمرے میں آکر انکا بستر چیک کیا جاتا ہے کہ کیا لڑکی پاک دامن ہے یا نہیں۔
لڑکے کے ذہن میں اچھی طرح ڈال دیا جاتا ہے کہ تمہاری بیوی صرف تمہاری جسمانی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہے بس اور اسکا کوئی کام نہیں ہے۔ اگر کسی گھر میں شوہر اپنی بیوی کو عزت دیتا ہے یا بیوی کی رائے کو اہمیت دیتا ہے تو اسے رن مرید کہتے ہیں جبکہ یہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
میری یہ تحریر  شاید ہمارے معاشرے کی قائم کردہ حدود کو پار کر رہی ہو لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جتنا ہمارے ملک میں مرد عورت کے جسمانی رشتے کو ڈسکس کرنا غلط سمجھتے ہیں گندی بات کہتے ہیں اتنا ہی اس ملک میں یہ گند دیکھا جاتا ہے۔ لیکن بات کرتے ہوئے سب حاجی بن جاتے ہیں۔



Post a Comment

0 Comments