When a muslim leaves the Islam

 When a Muslim leaves Islam under the influence of false philosophy, he is not compelled to undergo any formal or any kind of specific action, or to separate from the Muslim community, or to sever his social, economic and political ties with them.  Either change your way of life or make contact with another nation for marriage, friendship and kinship because the enemies of these religions have allowed their followers to become disgusted with the religion and seek refuge in Allah and His Messenger.  If you become an enemy of Allah, then there is no harm in you remaining within the realm of Islam.

 Thus, more than half of those who associate religion and faith are Muslims who are either deniers of Allah, or of revelation, or of prophethood, or of resurrection after death, or of reward and punishment, or of all of them.

 There are some among these Muslims who think that Islam is impractical in this age and some think that the whole religion is a deception which is either a result of economic conditions or a reaction to suppressed sexual desires.  Some of them consider Islam's economic system outdated and useless, some ridicule the Islamic State's proposal, some consider Islam's restrictions on sex to be an unhealthy and unhealthy obstacle to a natural biological process.  Some people are disagrees.  One considers the ways of worship of Islam meaningless and wants to stop Zakat, or Hajj, Qurbani, or prayer and fasting.

 Most of them deny the basics of Islam in the name of Islam and ridicule its other principles.  They call their non-Islamic ideas Islam and often they do not know that they have separated from Islam but have taken a path that goes in the opposite direction from Islam.

 Despite all this, these people remain Muslims in the Muslim community. They form relationships with Muslims. Marriage, friendship, food and drink are all related and they mislead the people around them.



URDU TRANSLATION:


باطل فلسفہ کے اثر سے جب کوئی مسلمان اسلام کو ترک کرتا ہے تو وہ مجبور نہیں ہوتا کہ شدھی یا کسی بھی طرح کی کسی رسمی کاروائی سے گزرے' یا مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوجائے' یا ان سے اپنی سماجی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات منقطع کرے یا اپنے رہن سہن کے طریقوں کو بدل دے یا شادی، دوستی اور رشتہ داری کیلئے کسی اور قوم سے رابطہ بنائے کیونکہ ان دین کے دشمنوں نے اپنے پرستاروں کو اجازت دے رکھی ہے کہ تم مذہب سے بیزار ہوکر اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے دشمن ہو جائو تو پھر کوئی حرج نہیں کہ تم۔اسلام ہی کے دائرے کے اندر رہو۔

اس طرح دین اور ایمان سے رشتہ جوڑنے والے نصف سے بھی زیادہ مسلمان ہیں جو یا تو اللّٰہ کے منکر ہیں، یا تو وحی کے، یا رسالت کے، یا موت کے بعد زندہ ہونے کے یا جزا اور سزا کے، یا ان سب کے۔

ان مسلمانوں میں بعض ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اسلام اس زمانے میں ناقابل عمل ہے اور بعض کا تو خیال ہے کہ سارا مذہب ہی ایک ڈھکوسلہ ہے جو یا تو اقتصادی حالات کا نتیجہ ہے یا دبی ہوئی جنسی خواہشات کا رد عمل۔ پھر ان میں سے کوئی اسلام کے معاشی نظام کو فرسودہ اور بے کار سمجھتا ہے، کوئی اسلامی ریاست کی تجویز کو مضحک قرار دیتا ہے، کوئی جنسی تعلقات پر اسلام کی عائد کی ہوئی پابندیوں کو ایک فطری حیاتیاتی عمل کی ناجائز مضر صحت اور رکاوٹ سمجھ کر ااسکا اختلاف کرتا ہے۔ کوئی اسلام کی عبادت کے طریقوں کو بے معنی سمجھتا ہے اور زکوة کو موقوف کرنا چاہتا ہے،یا حج کو،قربانی کو،یا نماز اور روزہ کو۔

ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اسلام ہی کےنام پر اسلام کی اساسیات کا انکار کرتے ہیں اور اسکے باقی اصولوں کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ اپنے غیر اسلامی تصورات ہی کو اسلام کا نام دیتے ہیں اور اکثر انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اسلام سے الگ ہو چکے ہیں بلکہ ایک ایسی راہ اختیار کر چکے ہیں جو اسلام سے بالکل برعکس سمت میں جاتی ہے۔

ان سب باتوں کے باوجود یہ لوگ مسلمانوں کی جماعت میں مسلمان بن کے رہتے ہیں۔مسلمانوں سے رشتہ داری بناتے ہیں شادی، دوستی، کھانا پینا سب تعلقات رکھتے ہیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ل فلسفہ کے اثر سے جب کوئی مسلمان اسلام کو ترک کرتا ہے تو وہ مجبور نہیں ہوتا کہ شدھی یا کسی بھی طرح کی کسی رسمی کاروائی سے گزرے' یا مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوجائے' یا ان سے اپنی سماجی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات منقطع کرے یا اپنے رہن سہن کے طریقوں کو بدل دے یا شادی، دوستی اور رشتہ داری کیلئے کسی اور قوم سے رابطہ بنائے کیونکہ ان دین کے دشمنوں نے اپنے پرستاروں کو اجازت دے رکھی ہے کہ تم مذہب سے بیزار ہوکر اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے دشمن ہو جائو تو پھر کوئی حرج نہیں کہ تم۔اسلام ہی کے دائرے کے اندر رہو۔

اس طرح دین اور ایمان سے رشتہ جوڑنے والے نصف سے بھی زیادہ مسلمان ہیں جو یا تو اللّٰہ کے منکر ہیں، یا تو وحی کے، یا رسالت کے، یا موت کے بعد زندہ ہونے کے یا جزا اور سزا کے، یا ان سب کے۔

ان مسلمانوں میں بعض ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اسلام اس زمانے میں ناقابل عمل ہے اور بعض کا تو خیال ہے کہ سارا مذہب ہی ایک ڈھکوسلہ ہے جو یا تو اقتصادی حالات کا نتیجہ ہے یا دبی ہوئی جنسی خواہشات کا رد عمل۔ پھر ان میں سے کوئی اسلام کے معاشی نظام کو فرسودہ اور بے کار سمجھتا ہے، کوئی اسلامی ریاست کی تجویز کو مضحک قرار دیتا ہے، کوئی جنسی تعلقات پر اسلام کی عائد کی ہوئی پابندیوں کو ایک فطری حیاتیاتی عمل کی ناجائز مضر صحت اور رکاوٹ سمجھ کر ااسکا اختلاف کرتا ہے۔ کوئی اسلام کی عبادت کے طریقوں کو بے معنی سمجھتا ہے اور زکوة کو موقوف کرنا چاہتا ہے،یا حج کو،قربانی کو،یا نماز اور روزہ کو۔

ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اسلام ہی کےنام پر اسلام کی اساسیات کا انکار کرتے ہیں اور اسکے باقی اصولوں کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ اپنے غیر اسلامی تصورات ہی کو اسلام کا نام دیتے ہیں اور اکثر انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اسلام سے الگ ہو چکے ہیں بلکہ ایک ایسی راہ اختیار کر چکے ہیں جو اسلام سے بالکل برعکس سمت میں جاتی ہے۔

ان سب باتوں کے باوجود یہ لوگ مسلمانوں کی جماعت میں مسلمان بن کے رہتے ہیں۔مسلمانوں سے رشتہ داری بناتے ہیں شادی، دوستی، کھانا پینا سب تعلقات رکھتے ہیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو گمراہ کرتےہیں۔۔





Post a Comment

0 Comments