When, where and how Durood Sharif comes in handy.
It is actually written in great books of benefits of Durood Pak that, In the old days, a friend lent three thousand dinars to another friend. When it was time to repay the loan, the man went to get his loan and said to his friend, "Today you promised to repay the loan, so pay me back." His friend said, "I don't have any money. I have lost my business. So he gave his friend a little more time to manage the money in so many days. But when he came to his friend for the second time and said, 'Today.' The period given to you for the second time has expired, so return my money today. His friend said, "I could not manage the money even today."
Eventually the matter reached the judge, who asked the man's friend if he owed him money. He said yes, the judge asked when and how to give? The friend said, "It's not my business. How can I pay?" The judge said, "Now you have thirty days to manage the money in those days and if you can't, you will be imprisoned."
Now when he came home, he had no money. He had recited a hadith which means that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “Whoever is upset should recite Durood on me frequently, because Durood is for troubles and troubles ends".
He thought that there is nothing else but this is the only source, so he started reciting Durood in the morning and evening. Twenty-seven days had passed and on the twenty-eighth night he heard a voice in a dream saying, "Don't worry, your debt will be paid." When he woke up, he started thinking that nothing will happen with his voice. He has to understand what the message is.
On the night of the 29th, he fell asleep reciting Durood and luck woke up. In a dream, the Holy Prophet (SAW) came to him and said, "Don't worry, go to Ali ibn-e-Isa minister and he will pay your debt."
When he woke up in the morning he was very happy but then the thought came that I will go to the minister but why he will believe me I have no evidence. In the same struggle, he fell asleep while reciting Durood Sharif and was to appear in court the next day. On the thirtieth night, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came to him in a dream and said, “Go to the minister and he will pay your debt.” The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Tell Ali ibn-e-Isa that you recite the Durood five thousand times a day after the Fajr prayers. Only you know this secret and your Lord knows it.
The next morning, before leaving the court, he reached the court of the minister. The minister was sitting in the court with his advisers. He said to the minister, "I have brought a message for you." The minister asked, "Whose message did you bring?" I have brought the message of Prophet (SAW). The minister immediately said, "Tell me, what message has my master sent?"
He said, "I am indebted to you for three thousand dinars. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) told me to ask you to pay my debt." The minister said, "How can I believe that my master, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) sent you to me?" Is.
The man said, "The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, 'You recite the Durood five thousand times a day after the Fajr prayers, and only you know it and your Lord knows it.'
Upon hearing this from the minister, he jumped for joy and said, "My lord, may Allah bless him and grant him peace, accepted my Durood and got up from his place and brought three thousand dinars from his room and handed them over to this man." He said, "This is for your debt and three thousands more because you brought me a message from my master, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), and then gave him three thousand more to start a business.
The man happily reached the court and presented the money to the judge. The judge asked, "First tell me where did this money come from? You used to say I am poor. How did you manage the money in a month?" So this man told the whole story. The judge was also a lover of the Prophet (peace be upon him). He got up from his seat and brought three thousand dinars and gave it to this man and said, "Why take Ali ibn Isa? I will pay your debt."
The person who had to pay the money was also watching this scene. He said, "Qazi Sahib, wait. I am also a follower of my master, the Holy Prophet (SAW). Give me paper and pen. I will forgive this debt."
The man wanted to return the three thousand dinars given to him by the judge, but the judge said that he would not take back the money withdrawn in the name of the Holy Prophet (SAW).
The man who was indebted to three thousand dinars the day before was now going home with twelve thousand dinars.
These were the true lovers of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and of Allah.
Urdu Translation:-
درود شریف کب، کہاں اور کیسے کام آتا ہے۔
یہ واقع بڑی بڑی کتابوں میں لکھا ہے اور درود پاک کی بڑی بڑی کتابوں میں لکھا ہے۔ پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک دوست نے اپنے دوسرے دوست کو تین ہزار دینار قرض دیئے۔ جب قرض کی ادائیگی کا وقت آگیا تو وہ شخص اپنا قرض لینے کیلئے گیا اور اپنے دوست سے کہا آج کے دن تم نے قرض کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا تو میری رقم لوٹا دو۔ اسکا دوست کہنے لگا پیسے تو نہیں ہیں میرے پاس میرا کاروبار ختم ہوگیا ہے، تو اس شخص نے اپنے دوست کو تھوڑا اور وقت دے دیا کہ اتنے دنوں میں انتظام کرلو رقم کا لیکن جب وہ شخص دوسری بار اپنے دوست کے پاس آیا اور کہا آج تمہیں دوسری مرتبہ دی گئی مدت ختم ہوگئی ہے لہذا آج میری رقم واپس کردو تو اسکا دوست کہنے لگا میں آج بھی پیسوں کا انتظام نہیں کرسکا۔
آخرکار معاملہ قاضی کے پاس پہنچ گیا، قاضی نے اس شخص کے دوست سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس شخص کے پیسے دینے ہیں؟ اس نے کہا جی دینے ہیں تو قاضی نے پوچھا کب اور کیسے دو گے؟ وہ دوست کہنے لگا میرا کاروبار ہی نہیں ہے میں کیسے دوں؟ قاضی نے کہا اب تمہارے پاس تیس دن کا وقت ہے ان دنوں میں پیسوں کا انتظام کرلو اؤر اگر نہ کرسکے تو تمہیں قید کرلیا جائے گا۔
اب وہ گھر آیا پیسے تو تھے نہیں اس کے پاس اس نے ایک حدیث پاک پڑھی تھی جسکا مفہوم ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص پریشان ہو اسے چاہیئے مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھے کیونکہ درود پاک مصیبتوں اور پریشانیوں کو ختم کرتا ہے۔
اس نے سوچا اب اور تو کچھ ہے نہیں ایک یہی ذریعہ ہے لہذا اسنے صبح شام درود پاک پڑھنا شروع کردیا، ستائیس دن گزر گئے اٹھائیسویں رات کو اس نے خواب میں آواز سنی کہ گھبرائو نہیں تمہارا قرض ادا کردیا جائے گا۔ جب وہ جاگا تو سوچنے لگا آواز سے تو کچھ نہیں ہوگا پیغام کیا ہے اسے سمجھنا ہے۔
انتیسویں رات آگئی وہ درود پاک پڑھتا سو گیا اور قسمت جاگ گئی، خواب میں حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا گھبرائو نہیں علی بن عیسی وزیر کے پاس جائو وہ تمہارا قرضہ ادا کردے گا۔
جب وہ صبح جاگا تو بہت خوش تھا لیکن پھر خیال آیا کہ میں وزیر کے پاس چلا تو جائوں گا لیکن وہ کیوں میری بات پر یقین کرے گا میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں ہے۔ اسی کشمکش میں وہ درود شریف پڑھتے سو گیا اور اگلے دن عدالت میں پیش ہونا تھا۔ تیسویں رات کو پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور فرمایا وزیر کے پاس جائو وہ تمہارا قرض ادا کردے گا تو اس شخص نے کہا حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم چلا تو جائوں گا لیکن اس نے کوئی نشانی مانگی تو کیا کہوں گا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا علی بن عیسی سے کہنا تم روزانہ فجر کی نماز کے بعد پانچ ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتے ہو یہ راز فقط تم جانتے ہو اور تمہارا رب جانتا ہے۔
اگلی صبح اٹھا عدالت جانے سے پہلے وزیر کے دربار میں پہنچا، وزیر اپنے مشیروں کے ساتھ دربار میں بیٹھا تھا اس نے وزیر سے کہا میں آپ کیلئے پیغام لایا ہوں، وزیر نے پوچھا کس کا پیغام لائے ہو تو اس شخص نے کہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا پیغام لایا ہوں وزیر نے فورا کہا بتائو میرے آقا نے کیا پیغام بھیجا ہے؟
اس نے بتایا کہ میں تین ہزار دینار کا مقروض ہوں مجھے حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے میں آپ سے کہوں آپ میراقرض ادا کردیں، وزیر نے کہا میں کیسے مان لوں آپ کو میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے میرے پاس بھیجا ہے۔
اس شخص نے کہا حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپ روزانہ فجر کی نماز کے بعد پانچ ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتے ہیں اور یہ صرف آپ جانتے ہیں اور آپ کا رب جانتا ہے۔
وزیر سے یہ سن کر خوشی سے جھوم اٹھا اور کہا میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے میرے درود قبول کرلئے اور اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے کمرے سے تین ہزار دینار لاکر اس شخص کے حوالے کردئے، اسکے علاوہ تیں ہزار دینار اور دیئے اور کہا کہ یہ اس لئے کہ آپ نے مجھے میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا پیغام لاکر دیا اور پھر تین ہزار دیئے اور کہا کہ ان سے کوئی کاروبار شروع کر لینا۔
وہ شخص خوشی سے عدالت پہنچا اور قاضی کو رقم پیش کردی قاضی نے پوچھا پہلے یہ بتائو یہ رقم آئی کہاں سے تم تو کہتے تھے غریب ہوں ایک مہینے میں پیسوں کا انتظام کیسے کیا؟ تو اس شخص نے سارا قصہ سنا دیا وہ قاضی بھی عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم تھا اپنی جگہ سے اٹھا اور تین ہزار دینار لا کر اس شخص کو دیئے اور کہا سارا ثواب علی بن عیسی کیوں لے جائے تمہارا قرض میں ادا کروں گا۔
جس شخص کے پیسے دینے تھے وہ بھی یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے کہا قاضی صاحب رکیئے میں بھی اپنے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا امتی ہوں کاغذ اور قلم دیجئے میں یہ قرض ہی معاف کرتا ہوں۔
اس شخص نے قاضی کے دیئے ہوئے تین ہزار دینار واپس کرنا چاہے مگر قاضی نے کہا جو پیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے نام کے نکال دیئے اب واپس نہیں لوں گا۔
جو شخص ایک دن پہلے تین ہزار دینار کا مقروض تھا اب بارہ ہزار دینار لیکر گھر جا رہا تھا۔
یہ درود شریف کب، کہاں اور کیسے کام آتا ہے۔
یہ واقع بڑی بڑی کتابوں میں لکھا ہے اور درود پاک کی بڑی بڑی کتابوں میں لکھا ہے۔
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک دوست نے اپنے دوسرے دوست کو تین ہزار دینار قرض دیئے۔ جب قرض کی ادائیگی کا وقت آگیا تو وہ شخص اپنا قرض لینے کیلئے گیا اور اپنے دوست سے کہا آج کے دن تم نے قرض کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا تو میری رقم لوٹا دو۔ اسکا دوست کہنے لگا پیسے تو نہیں ہیں میرے پاس میرا کاروبار ختم ہوگیا ہے، تو اس شخص نے اپنے دوست کو تھوڑا اور وقت دے دیا کہ اتنے دنوں میں انتظام کرلو رقم کا لیکن جب وہ شخص دوسری بار اپنے دوست کے پاس آیا اور کہا آج تمہیں دوسری مرتبہ دی گئی مدت ختم ہوگئی ہے لہذا آج میری رقم واپس کردو تو اسکا دوست کہنے لگا میں آج بھی پیسوں کا انتظام نہیں کرسکا۔
آخرکار معاملہ قاضی کے پاس پہنچ گیا، قاضی نے اس شخص کے دوست سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس شخص کے پیسے دینے ہیں؟ اس نے کہا جی دینے ہیں تو قاضی نے پوچھا کب اور کیسے دو گے؟ وہ دوست کہنے لگا میرا کاروبار ہی نہیں ہے میں کیسے دوں؟ قاضی نے کہا اب تمہارے پاس تیس دن کا وقت ہے ان دنوں میں پیسوں کا انتظام کرلو اؤر اگر نہ کرسکے تو تمہیں قید کرلیا جائے گا۔
اب وہ گھر آیا پیسے تو تھے نہیں اس کے پاس اس نے ایک حدیث پاک پڑھی تھی جسکا مفہوم ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص پریشان ہو اسے چاہیئے مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھے کیونکہ درود پاک مصیبتوں اور پریشانیوں کو ختم کرتا ہے۔
اس نے سوچا اب اور تو کچھ ہے نہیں ایک یہی ذریعہ ہے لہذا اسنے صبح شام درود پاک پڑھنا شروع کردیا، ستائیس دن گزر گئے اٹھائیسویں رات کو اس نے خواب میں آواز سنی کہ گھبرائو نہیں تمہارا قرض ادا کردیا جائے گا۔ جب وہ جاگا تو سوچنے لگا آواز سے تو کچھ نہیں ہوگا پیغام کیا ہے اسے سمجھنا ہے۔
انتیسویں رات آگئی وہ درود پاک پڑھتا سو گیا اور قسمت جاگ گئی، خواب میں حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا گھبرائو نہیں علی بن عیسی وزیر کے پاس جائو وہ تمہارا قرضہ ادا کردے گا۔
جب وہ صبح جاگا تو بہت خوش تھا لیکن پھر خیال آیا کہ میں وزیر کے پاس چلا تو جائوں گا لیکن وہ کیوں میری بات پر یقین کرے گا میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں ہے۔ اسی کشمکش میں وہ درود شریف پڑھتے سو گیا اور اگلے دن عدالت میں پیش ہونا تھا۔ تیسویں رات کو پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور فرمایا وزیر کے پاس جائو وہ تمہارا قرض ادا کردے گا تو اس شخص نے کہا حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم چلا تو جائوں گا لیکن اس نے کوئی نشانی مانگی تو کیا کہوں گا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا علی بن عیسی سے کہنا تم روزانہ فجر کی نماز کے بعد پانچ ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتے ہو یہ راز فقط تم جانتے ہو اور تمہارا رب جانتا ہے۔
اگلی صبح اٹھا عدالت جانے سے پہلے وزیر کے دربار میں پہنچا، وزیر اپنے مشیروں کے ساتھ دربار میں بیٹھا تھا اس نے وزیر سے کہا میں آپ کیلئے پیغام لایا ہوں، وزیر نے پوچھا کس کا پیغام لائے ہو تو اس شخص نے کہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا پیغام لایا ہوں وزیر نے فورا کہا بتائو میرے آقا نے کیا پیغام بھیجا ہے؟
اس نے بتایا کہ میں تین ہزار دینار کا مقروض ہوں مجھے حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے میں آپ سے کہوں آپ میراقرض ادا کردیں، وزیر نے کہا میں کیسے مان لوں آپ کو میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے میرے پاس بھیجا ہے۔
اس شخص نے کہا حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپ روزانہ فجر کی نماز کے بعد پانچ ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتے ہیں اور یہ صرف آپ جانتے ہیں اور آپ کا رب جانتا ہے۔
وزیر سے یہ سن کر خوشی سے جھوم اٹھا اور کہا میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے میرے درود قبول کرلئے اور اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے کمرے سے تین ہزار دینار لاکر اس شخص کے حوالے کردئے، اسکے علاوہ تیں ہزار دینار اور دیئے اور کہا کہ یہ اس لئے کہ آپ نے مجھے میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا پیغام لاکر دیا اور پھر تین ہزار دیئے اور کہا کہ ان سے کوئی کاروبار شروع کر لینا۔
وہ شخص خوشی سے عدالت پہنچا اور قاضی کو رقم پیش کردی قاضی نے پوچھا پہلے یہ بتائو یہ رقم آئی کہاں سے تم تو کہتے تھے غریب ہوں ایک مہینے میں پیسوں کا انتظام کیسے کیا؟ تو اس شخص نے سارا قصہ سنا دیا وہ قاضی بھی عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم تھا اپنی جگہ سے اٹھا اور تین ہزار دینار لا کر اس شخص کو دیئے اور کہا سارا ثواب علی بن عیسی کیوں لے جائے تمہارا قرض میں ادا کروں گا۔
جس شخص کے پیسے دینے تھے وہ بھی یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے کہا قاضی صاحب رکیئے میں بھی اپنے آقا صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا امتی ہوں کاغذ اور قلم دیجئے میں یہ قرض ہی معاف کرتا ہوں۔
اس شخص نے قاضی کے دیئے ہوئے تین ہزار دینار واپس کرنا چاہے مگر قاضی نے کہا جو پیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے نام کے نکال دیئے اب واپس نہیں لوں گا۔
جو شخص ایک دن پہلے تین ہزار دینار کا مقروض تھا اب بارہ ہزار دینار لیکر گھر جا رہا تھا۔
یہ تھے سچے عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم اور اللّٰہ والے۔ سچے عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم اور اللّٰہ والے۔



0 Comments
If you have any suggestions please let me know