BELOVED PROPHET MUHAMMAD PBUH

 

When Hazrat Muhammad (peace be upon him) was seven years old, his eyes began to ache.  Hazrat Abdul Muttalib, the grandfather of the Prophet (peace be upon him), treated the Prophet (peace be upon him) a lot, but the Prophet (peace be upon him) did not get any relief.  Hazrat Abdul Muttalib (may Allah be pleased with him) was very worried about what to do now. Even after getting so much treatment, there is no relief.  He was sitting anxiously thinking that someone who knew him said, "O chiefs of Makkah, do not be upset."  There is an Akaza Bazaar near Makkah Sharif. There is a doctor's house next to this bazaar. He is very capable. He will also give medicine and will also suffocate your grandson. It will definitely be fine.  We have tried it many times. Hazrat Abdul Muttalib was very happy and took Hazrat Muhammad (PBUH) with him and went to see this doctor. It was evening time. When he reached his house, the door was closed. He asked the people there about the doctor, how is he? People praised him that he has great healing in his hands.  The patient recovers "Where is he now?" The people said, "He is at home, but he will not open the door now."  The people said that he is not obliged of his duty, do work when ever he want. It keeps on closing the door for many days. The people said that it is difficult to open the door now because the door is closed today.  It will only open after six months or a year.  He was standing anxiously when suddenly there was an earthquake in the house of the doctor. The walls and the roof began to shake. The house of the doctor was about to collapse and he might came under the house, he immediately opened the door and came out.  When he came out, he recognized Hazrat Abdul Muttalib as the chief of Makkah.  The doctor asked, "why did you came?" Hazrat Abdul Muttalib said, "This is my grandson. He is ill. His eyes are not healing.  When the doctor saw Hazrat Muhammad (peace be upon him), he just stared.
Then he went to the room, took a bath, applied perfume and new clothes, then picked up a few pages of a divine scripture and came to the Prophet Muhammad (peace be upon him) to look at his book, sometimes the bright face of the Prophet (peace be upon him). Sometimes he would look at the book and then he would see the blessed hair of the Holy Prophet (sws), he would look at all the pages and he would see the Holy Prophet (sws) from head to toe and then he would fall down and say,  I bear witness that you are the last prophet and messenger of Allah (swt), no prophet will come after you.
Praise be to Allaah. Prophethood had not yet been announced and the doctor had read the word after seeing the bright face.  Hazrat Abdul Muttalib was very happy to hear the doctor's words and then said, "O doctor, hurry up for the work for which I have come."  The doctor asked what work?  Hazrat Abdul Muttalib said, "Give medicine to my grandson and also breathe so that his eyes will be healed."  The doctor said, "What are you saying?"  Should I treat it?  Hazrat Abdul Muttalib said, "I have come for this reason. There were tears in the eyes of the doctor and he said to Hazrat Abdul Muttalib," cheif, you have not understood the greatness of the Holy Prophet (PBUH). You have brought the doctor to the patient.  The Prophet has been brought to the ummah.
O Abdul Muttalib, I was worshiping Allah in my place of worship when suddenly my whole house started shaking. If I had not come out, I would have come under the house and died.  O Abdul Muttalib, this grandson of yours is of great glory and position.  Look at his luminous face.  The Jews of the universe are his enemies. Don't take him out like this so that no Jew will harm him. Go and take him home.  Hazrat Abdul Muttalib said, "Thank you very much for guiding me, but the real problem is in its place."  The problem for which I came here with my grandson is not solved.  The doctor smiled and replied, "O chief of Makkah, he has the cure for his eyes. You do not know."
The doctor said, "Take out his blessed mouth water and put it in his eyes. He will recover immediately."  Hazrat Abdul Muttalib took out the blessed mouth water of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) and put it in the eyes of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him). Hazrat Muhammad PHUM recover as he was not ill. Hazrat Abdul Muttalib was very surprised and thanked the doctor. The doctor said, " I should be thankful to you for allowing me to meet  the Holy Prophet (PBUH)."  Hazrat Abdul Muttalib said, "Your breath is very famous. I have heard that whatever you breathe, the patient recovers immediately. What are those words?"  Which is so effective that people relax?  The doctor smiled and said, "Whenever a patient comes to me, I stretch out my hand before Allah and say, 'O Allah, I swear by the last Prophet, may Allah bless him and grant him peace, for your love, (MUHAMMAD PBUH)  Heal the sick then I breathe on the sick and Allah heals the sick.  Subhan Allah.


URDU TRANSLATION:-

حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی عمر مبارک جب سات برس کی ہوئی تو آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی آنکھیں دکھنے لگیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا بہت علاج کر وایا مگر آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کو کہیں سے آرام نہ آیا۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بڑے پریشان ہوئے کہ اب کیا کروں اتنا علاج کروانے کے بعد بھی کوئی آرام نہیں آرہا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پریشان بیٹھے سوچ رہے تھے کہ کسی جاننے والے نے کہا کہ اے مکہ کے سردار پریشان نہ ہوں۔ مکہ شریف کے  قریب ایک عکاظہ بازار ہے اس بازار کے ساتھ ایک طبیب کا گھر ہے، بڑا قابل ہے وہ دوائی بھی دے گا اور آپ کے پوتے کو دَم بھی کرے گا یہ یقیناً ٹھیک ہو جائیگا۔ ہم نے کئی مرتبہ اسکو آزمایا ہے حضرت عبدالمطلب بہت خوش ہوئے اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کو ساتھ لیا  اور اس طبیب کے پاس تشریف لے گئے شام کا وقت تھا آپ اس کے مکان پر پہنچے دروازہ بند تھا۔ آپ نے وہاں کے لوگوں سے اس طبیب کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیسا ہے لوگوں نے اسکی بڑی تعریف کی کہ اس کے ہاتھ میں بڑی شفاء ہے جو مریض بھی آئے یہ دوائی بھی دیتے ہیں اور دَم بھی کرتے ہیں اللّٰہ تعالٰی کرم کرتا ہے اور بیمار ٹھیک ہوجاتا ہے۔ حضرت عبدالمطلب نے پوچھا اب کہاں ہے لوگوں نے کہا اپنے گھر پر ہی ہے مگر اب دروازہ نہیں کھولے گا آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے پوچھا کیوں؟ لوگوں نے سرکار یہ اپنی مرضی والا بندہ ہے دروازہ بند کرکے کرتا رہتا ہے کئی دن تک دروازہ بند رہتا ہے لوگوں نے کہا اب تو دروازہ کھلنا مشکل ہے کیونکہ آج ہی دروازہ بند ہوا ہے۔ اب چھ مہینے یا سال کے بعد ہی کھلے گا ۔ آپ رضی اللّٰہُ تعالٰی عنہ پریشان کھڑے تھے کہ اچانک طبیب کے گھر زلزلہ آیا دیواریں اور چھت ہلنے لگیں قریب تھا کہ اس طبیب کا مکان گر جاتا اور وہ مکان کے نیچے آجاتا وہ فوراً دروازہ کھول کر باہر آگیا۔ جب وہ باہر آیا تو اس نے حضرت عبدالمطلب کو پہچان لیا کہ یہ مک کے سردار ہیں۔ طبیب نے پوچھا سرکار کیسے آنا ہوا حضرت عبدالمطلب نے فرمایا یہ میرا پوتا ہے، بیمار ہے آنکھیں ٹھیک نہیں ہو رہیں، سنا ہے آپ کے ہاتھ میں بڑی شفا ہے مہربانی کرو کوئی دوائی دو کہ میرے پوتے کو آرام آجائے۔ طبیب نے جب حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ 

پھر کمرے میں گیا غسل کیا، خوشبو لگائی اور نئے کپڑے پہنے پھر ایک آسمانی صحیفہ کے چند اوراق اٹھا کر لایا اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے پاس آکر دیکھنے لگا کبھی اپنی کتاب دیکھتا تو کبھی حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ انور دیکھتا۔ کبھی کتاب دیکھتا اور پھر حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زلف مبارک دیکھتا، سارے اوراق بھی دیکھ لئے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کو سر سے پائوں تک بھی دیکھا اور پھر قدموں میں گر کر کہنے لگا، "اے محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم میں گواہی دیتا ہوں آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم اللّٰہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔ 

سبحان اللّٰہ ابھی اعلان نبوت نہیں ہوا تھا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ انور دیکھ کر طبیب نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ حضرت عبدالمطلب طبیب کی بات سن کر بہت خوش ہوئے پھر فرمایا اے طبیب جس کام کیلئے میں حاضر ہوا ہوں وہ جلدی کریں۔ طبیب نے پوچھا کون سا کام؟ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا میرے پوتے کو دوا بھی دے دو اور دَم بھی کردو  تاکہ اسکی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں۔ طبیب نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں اس کا علاج کروں؟ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا میں تو آیا ہی اس خاطر ہوں، طبیب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور حضرت عبدالمطلب سے کہا کہ سرکار آپ تو حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی عظمت کو سمجھے ہی نہیں آپ تو طبیب کو مریض کے پاس لے آئے ہیں، نبی کو امتی کے پاس لے آئے ہیں۔

اے عبدالمطلب میں اپنی عبادت گاہ میں بیٹھا اللّٰہ کی عبادت کر رہا تھا کہ اچانک  میرا سارا مکان لرزنے لگا اگر میں باہر نہ آتا تو مکان کے نیچے آکر مر جاتا۔ اے عبدالمطلب تیرا یہ پوتا بڑی شان اور مقام والا ہے۔ دیکھ اس کے نورانی چہرے کو۔ کائنات کے یہودی اس کے دشمن ہیں اس طرح لیکر اسے نہ پھرا کرو کہیں کوئی یہودی اسے تکلیف نہ پہنچائے، جائو اسے گھر لے جائو۔ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا آپکا بہت شکریہ آپ نے میری رہنمائی فرمائی لیکن اصل مسئلہ تو اپنی جگہ ہے۔ جس مقصد کیلئے میں اپنے پوتے کو لیکر یہاں آیا تھا وہ مسئلہ تو حل نہیں ہوا۔ طبیب نے مسکرا کر جواب دیا اے سردار مکہ انکی آنکھوں کا علاج خود انکے پاس ہے آپکو معلوم ہی نہیں۔

طبیب نے کہا ان کا لعب مبارک نکال کر انکی آنکھوں میں لگائو یہ فوراً ٹھیک ہو جائیں گے۔ حضرت عبدالمطلب نے آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کا لعب مبارک نکال کر آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں میں لگایا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں جیسے کبھی دکھی ہی نہیں تھیں۔ حضرت عبدالمطلب بڑے حیران ہوئے اور طبیب کا شکریہ ادا کیا تو طبیب نے کہا حضور شکریہ تو آپکا  کہ آپ نے مجھے حضور صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کروائی ۔ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا آپ کا دَم بڑا مشہور ہے سنا ہے آپ جسے بھی دَم کرتے ہیں وہ مریض فوراً ٹھیک ہو جاتا ہے، وہ الفاظ کیا ہیں؟ جسمیں اتنی تاثیر ہے کہ لوگوں کو آرام آجاتا ہے؟ طبیب نے مسکرا کر کہا کہ حضور جب بھی کوئی مریض میرے پاس آتا ہے تو میں اللّٰہ کے آگے ہاتھ پھیلا کر کہتا ہوں، اے اللّٰہ تجھے آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی قسم، تجھے تیرے پیار کا واسطہ، اُسکی محبوبیت کا واسطہ اس بیمار کو شفاء عطا فرما پھر میں مریض پر دَم کر دیتا ہوں اور اللّٰہ بیمار کو شفاء دے دیتا ہے۔ سبحان اللّٰہ۔




Post a Comment

0 Comments