From the politicians sitting in the houses to the ordinary citizens who make a wheelbarrow, the uncrowned king of dishonesty, fraud, adultery, lies, alcoholism and bribery is the Muslim of my beloved country Pakistan.
We have become the contractors of paradise by deceitfully selling dog meat and donkey meat by calling it Pakistani goat meat whereas in European countries when a Muslim goes to get meat or goes to a hotel he is honestly told which ones here, there is animal meat. A Muslim is not given haraam meat by any kind of deception in Europe.
Cat-shaped mice also come from our own hotels and shops who have been taught the lesson of "cleanliness is half faith" all their lives. Rats do not come out of infidel hotels.
They are not like us to commit immorality under the nobility, they remain as they are, they do not have two faces like us. In our country, a relationship without marriage is called adultery and obscenity and it is strictly forbidden in our religion and country, but the highest body lust is also in our country. People like to see and do it in secret and in the eyes of the world. They become virtuous. A few days ago, Air Blue Incident took place in our country where a couple close to eachother in a public. No one could stop it.
In the land of the unbelievers, the law is equal for all, rich or poor, justice is given to all. If they say that the law is equal for all, then they do so. They fight and die but do not get justice. Many innocent people have been serving their sentences for many years in prisons but no one is listening to them.
To say that our country is a free country but it is very difficult to live here and our people go to European countries for easy lives because they know that their hard work will be paid honestly there, their rights and future are safe there.
We, the pioneers of Islam, those who sacrificed in the name of Islam, those who showered their lives on the Holy Prophet (PBUH) have made each other lives difficult. From which mouth will you go to Allah? We are only filling our graves with embers.
Shame on us, we will never be ashamed.
All our lives we are taught the lessons of truth, hard work and honesty. When we grow up in this society, we find out that there is no place for honesty, hard work and truth. If you tell the truth, you will be killed anyway. As long as you are honest, you will be unemployed and hungry. Even if you need two meals a day, you will have to be dishonest.
It is always said that the more you study, the better you will get a job and when you go for a job after 18 years of study, you will realize how big a mistake we have made by studying, we have only wasted money and time because for jobs Experience is required. If not, arrange recommendation and bribe. For a government job, only bribery will work. Put your 18-year degree in the stove. Now, after all, if someone steals by doing MA, then the hand of the thief should be cut off, not the hand of the thief.
Do something. Tell your children clearly. Son, there is no place for honest work in this country and you have to live in this country. Tell your children the truth that we have not been told and we can no longer face.
Pay attention to education and skills with education.
URDU TRANSLATION:-
ہم لوگوں کے دو چہرے ہیں
ایوانوں میں بیٹھے ہوئے سیاستدانوں سے لیکر ایک ریڑھی لگانے والا عام شہری بھی بے ایمانی، دھوکے بازی، ملاوٹ، جھوٹ، شراب نوشی، اور رشوت کا بے تاج بادشاہ ہے میرے پیارے ملک پاکستان کا مسلمان۔
ہم پاکستانی بکرے کا گوشت کہہ کر دھوکے سے کتے اور گدھے کا گوشت بیچ کر جنت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں جب ایک مسلمان گوشت لینے جاتا ہے یا کسی ہوٹل میں جاتا ہے تو اسے ایمانداری سے بتایا جاتا ہے کہ یہاں پر کونسے جانور کا گوشت موجود ہے کسی طرح کا دھوکہ دے کر ایک مسلمان کو حرام گوشت نہیں دیا جاتا۔
بلی کے سائز کے چوہے بھی ہمارے ہی ہوٹل اور دکانوں سے نکلتے ہیں جنہیں ساری زندگی "صفائی نصف ایمان ہے" کا سبق پڑھایا گیا ہوتا ہے۔ کافروں کے ہوٹلوں سے نہیں نکلتے چوہے۔
وہ لوگ ہماری طرح نہیں ہیں کہ شرافت کی آڑ میں بے حیائی کریں، جیسے ہیں ویسے ہی بن کے رہتے ہیں ہماری طرح دو چہرے نہیں رکھتے۔ ہمارے ہاں بغیر نکاح کے رشتہ زنا اور فحاشی کہلاتا ہے اور سختی سے منع ہے ہمارے دین اور ملک میں لیکن سب سے زیادہ جسم کی ہوس بھی ہمارے ملک میں ہے لوگ چھپ کے یہ دیکھنا اور کرنا پسند کرتے ہیں اور دنیا کی نظر میں شریف اور باکردار بنے پھرتے ہیں۔ یہ کچھ دن پہلے ایئر بلیو میں ایک جوڑے کی نے جو حرکت کی ہے سب کے سامنے وہ بھی ہمارے ملک میں ہی ہوا ہے اور کوئی نہیں روک سکا۔
کافروں کے ملک میں قانون سب کیلئے برابر ہے امیر ہو یا غریب انصاف سب کو ملتا ہے وہ اگر کہتے ہیں قانون سب کیلئے برابر ہے تو وہ ایسا کرتے بھی ہیں ہمارے ہاں تو قانون اور انصاف صرف امیر کیلئے ہے اور غریب کئی سال تک انصاف کیلئے لڑتے مرجاتے ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا بہت سے بے گناہ کئی سالوں سے اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں جیلوں میں لیکن کوئی انکی سننے والا نہیں ہے۔
کہنے کو تو ہمارا ملک ایک آزاد ملک ہے مگر بہت مشکل ہے یہاں زندگی گزارنا اور ہمارے لوگ آسان زندگیوں کیلئے یورپی ممالک میں جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں وہاں انکی محنت صلہ ایمانداری سے ملے گا وہاں انکے حقوق اور مستقبل محفوظ ہیں۔
ہم اسلام کے علمبردار، اسلام کے نام پر قربان ہونے والے، نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم پر زندگیاں نچھاور کرنے والے ایک دوسرے کی زندگیاں ہی مشکل کی ہوئی ہیں۔ کس منہ سے جائیں گے اللّٰہ کے پاس؟ اپنی قبر کو صرف انگاروں سے بھر رہے ہیں ہم۔
شرم تو آتی نہیں ہمیں کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوں گے ہم۔
ساری زندگی ہمیں سچائی، محنت اور ایمانداری کا سبق پڑھایا جاتا ہے بڑے ہو کر جب اس معاشرے میں نکلتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہاں تو ایمانداری، محنت اور سچائی کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ سچ بولنے پر تو ویسے ہی مار دیئے جائو گے، ایماندار جب تک رہو گے بیروزگار اور بھوکے رہو گے۔دو وقت کا کھانا اگر چاہیئے تو بھی بے ایمانی کرنی پڑے گی۔
ہمیشہ ایک ہی بات کہی جاتی ہے جتنا زیادہ پڑھو گے اتنی اچھی نوکری ملے گی اور جب 18 سال پڑھ کے نوکری کیلئے جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہم نے پڑھ کے کتنی بڑی غلطی کی ہے صرف اور صرف پیسہ اور وقت ضائع کیا ہے کیونکہ نوکریوں کیلئے تو تجربہ مہارت چاہیئے اگر نہیں ہے تو سفارش اور رشوت کا انتظام کریں۔ سرکاری نوکری کیلئے تو صرف رشوت چلے گی اپنی 18 سال کی ڈگری کو چولہے میں ڈال دیں۔ اب ان سب کے بعد اگر کوئی ایم-اے کر کے چوری کرتا ہے تو ہاتھ چور کے نہیں حاکم وقت کے کاٹنے چاہیئے۔
ایک کام کریں اپنے بچوں کو صاف بتائیں بیٹا اس ملک میں ایمانداری محنت کی کوئی جگہ نہیں ہے اور تمہیں اسی ملک میں رہنا ہے۔ اپنے بچوں کو سچ بتائیں وہ سچ جو ہمیں نہیں بتایا گیا اور اب ہم اس سچ کا سامنا نہیں کر پا رہے۔
تعلیم کے ساتھ تربیت اور ہنر پر توجہ دیں۔


0 Comments
If you have any suggestions please let me know