When Umar ibn al-Khattab came to the treasury after taking over the Khilafah, he asked the people what Hazrat Abu Bakr used to do.
So the people said that they used to go out to one side after the prayers with some food.
Omar (may Allah be pleased with him) asked which way they used to go. The people said that they did not know which way they would go.
Omar took some food and walked towards the path indicated by the people, asking the people where Abu Bakr was going. On his way he reached a hut and saw an old man who
He was blind in both eyes and had bruises on his face.
When the man heard someone coming, he said angrily, "Where have you been for the last three days?"
Umar (may Allah be pleased with him) remained silent and began to feed him. The man said angrily, "What's the matter? You came three days later and forgot the method of feeding."
When Umar heard this, he began to weep and told the man that he was Umar and that those who used to feed him were the Caliph of the Muslims, Abu Bakr, and that he had died.
When the old man heard this, he immediately stood up and said, "O Umar, make me a Muslim by reciting the word."
For the last two years, Abu Bakr used to come to me every day and feed me. Not a single day did he tell me about himself, who I am ...
Urdu Translation:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما خلافت سنبھالنے کے بعد بیت المال میں آئے تو لوگوں سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما کیا کرتے تھے؟ تو لوگون نے بتایا کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر کھانے کا تھوڑا سا سامان لیکر ایک طرف کو نکل جایا کرتے تھے۔ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما نے پوچھا کہ کس طرف جاتے تھے لوگوں نے بتایا کہ یہ نہیں پتہ بس اس طرف کو نکل جاتے۔ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما نے کھانے کا کچھ سامان لیا اور لوگوں کے بتائے ہوئے راستے کی طرف چل پڑے لوگوں سے پوچھتے ہوئے کہ ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما کس طرف جاتے تھے چلتے چلتے ایک جھونپڑی تک پہنچ گئے وہاں جاکر دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی جو کہ دونوں آنکھوں سے اندھا تھا اور اس کے چہرے پر پھالکے بنے ہوئے تھے۔ اس آدمی نے جب کسی کے آنے کی آواز سنی تو بڑے غصے سے بولا کہ پچھلے تین دن سے کہاں چلے گئے تھےتم؟ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما خاموش رہے اور اسے کھانا کھلانے لگے تو وہ آدمی غصے سے بولا کہ کیا بات ہے ایک تو تین دن بعد آئے ہو اور کھانا کھلانے کا طریقہ بھی بھول گئے ہو؟ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما نے یہ سنا تو رونے لگے اور اس آدمی کو بتایا کہ میں عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما ہوں اور وہ جو آپ کو کھانا کھلاتے تھے وہ مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما تھے اور وہ وفات پا چکے ہیں۔ جب اس بوڑھے نے یہ سنا تو فوراً کھڑا ہوگیا اور کہا اے عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیں۔ پچھلے دو سال سے ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما روزانہ میرے پاس آتے اور کھانا کھلاتے تھے۔ایک دن بھی مجھے اپنے بارے میں نہیں بتایا کہ میں کون ہوں۔۔۔۔!


0 Comments
If you have any suggestions please let me know