If we consider these words of Allama Iqbal, then we realize It is a very sad and embarrassing situation ... the struggle to survive we have forgotten death. We have forgotten that this is a temporary life. For this dream-like life, we are ignoring and destroying our real and everlasting life. This was our testing ground. So they are living as if they are not going to die. Have you ever considered that the graveyards are full of people who thought that the world could not function without them...
URDU TRANSLATION
نام کے مسلمان
اگر ہم علامہ اقبال کے ان الفاظوں پر غور کریں تو یہ ہم مسلمانوں کی نہایت افسوس ناک اور شرمناک حالت ہے۔۔۔ زندہ رہنے کی جدوجہد میں موت کو بھلا بیٹھے ہیں ہم ۔۔۔ہم بھول گئے ہیں یہ تو عارضی زندگی ہے اس خواب نما زندگی کیلئے ہم اپنی اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کو نظر انداز کر رہے ہیں اور تباہ کر رہے ہیں۔یہ تو امتحان گاہ تھی ہماری۔۔ہم تو ایسے جی رہے ہیں جیسے مرنا ہی نہیں کبھی کیا کبھی غور کیا ہے کہ قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہی جو سمجھتے تھے کہ دنیا انکے بغیر نہیں چل سکتی۔۔
گونگی ہو گئی آج کچھ زبان کہتے کہتے،
ہچکچا گیا خود کومسلماں کہتے کہتے،
یہ بات نہیں کہ مجھ کواس پر یقین نہیں،
بس ڈر گیا خود کو مسلماں کہتے کہتے
توفیق نہ ہوئی مجھکو اک وقت کی نماز کی،
اور چپ ہوا مئوذن اذان کہتے کہتے،
کسی کافر نے جو پوچھا ہےکونسا مہینہ،
شرم سے پانی ہاتھ سے گرگیا رمضان کہتے کہتے
میری الماری میں گرد سے اٹی کتا ب کا جو پوچھا
میں گَڑ گیا زمین میں قرآن کہتے کہتے،
یہ سن کر چپ سادھ لی اقبال اس نے



0 Comments
If you have any suggestions please let me know